اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستانی صوبے پنجاب میں انڈسٹری مالکان اور کاروباری کارکنوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مارکیٹ کی اہمیت سمیت اقتصادی تبادلے کو بڑھانے کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں پڑوسی ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان تعاون کے فروغ کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی صوبے پنجاب میں واقع شہر لاہور میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل "محمد رضا ناظری" نے سیالکوٹ کا دورہ کرتے ہوئے اس شہر کے ایوان صنعت و تجارت کے عہدیداروں سے ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور بازرگانی لین دین کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسی دورے کے موقع پر سیالکوٹ کے انڈسٹری مالکان، کاروباری کارکنوں اور ایوان صنعت و تجارت کے ممبران کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں حصہ لینے والوں نے ایرانی اور پاکستانی صنعت کاروں، سرمایہ کاری کے موثر علاقوں، مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد اور تجارتی وفود کے تبادلے سے متعلق اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔
اس موقع پر محمد رضا ناظری نے ہمسایہ ممالک بالخصوص دوست اور برادر ملک پاکستان سے تعلقات کے فروغ سے متعلق ایران کی تیرہویں حکومت کی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک اہم آبادی اور دیگر مشترکات اور پیرامیٹرز سے مشرقی پڑوسی کے طور پر پاکستان کیساتھ تعلقات میں اضافہ، اسلامی جمہوریہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے ایران کے جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت اور وسطی ایشیا، ترکی، جمہوریہ آذربائیجان، داغستان، کرغیزستان، تاجکستان، آرمینیا، عراق اور خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں کے ممالک تک رسائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تاجر، ایران کے خصوصی صنعتی زونز جیسے سرخس، ارس، اروندرود میں سرمایہ کاری کے مواقع استعمال کرکے 600 ملین کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ناظری نے اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا قونصل خانہ، پاکستانی کاروباری برادری کیساتھ کسی بھی تعاون کیلئے تیار ہے تاکہ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دی جا سکے اور تجارتی وفود کا تبادلہ کیا جا سکے۔
دراین اثنا سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت کے نائب سربراہ "خرم اسلم" اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین "انصر عزیز" نے پنجاب کے کار و باری برادری کے درمیان ایرانی قونصل جنرل کی موجودگی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان میں تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور سماجی مشترکات ہیں اور دونوں برادر اور پڑوسی ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان تعامل بڑھانے کی ضرورت ہے۔
نیز سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ چوہدری قیصر اقبال نے ایران اور پاکستان میں متعلقہ اداروں کی طرف سے دو طرفہ تجارت کو مؤثر طریقے سے فروغ دینے بالخصوص نجی شعبوں کی توسیع دینے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان مختلف چینلز کا استعمال، طویل مدتی تجارتی تعلقات کی ضمانت دیتے ہوئے مشترکہ مفادات کے حصول کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲